اُس وقت میری عمر پانچ چھ برس ہو گی۔ ہمارے گھر کے سامنے سے کچی سڑک گزرتی تھی۔ سڑک کے ساتھ پانی کا نالہ چلتا تھا اور کنارے پر دونوں جانب ٹاہلیوں کے بلند پیڑ تھے۔ ساتھ ہی یونین کونسل کا دفتر تھا۔ اُس میں بھی بےشمار شیشم اور نیم کے درخت تھے۔ سڑک پر پھیری لگانے والے اکثر آواز لگاتے ہوئے گزرتے تھے۔ کھوئے کی قفلی لے لو، گُڑ اور برف کا ٹھنڈا گولا لے لو۔ لال و لال متیرہ لے لو، خاص کر جب قفلی اور گولے کی آواز آتی تو میرے کان کھڑے ہو جاتے، بھاگ کر سڑک پر آ جاتا۔ پیسے اُن دِنوں نہیں ہوتے تھے۔ کبھی کبھار گندم یا آٹا گولے والے کو دے کر برف کا گولا بنوا لیتا۔ سُڑکے لگا لگا کر چوستا اور شیشم کے درختوں کی چھاؤں تلے پانی کے نالے میں پاؤں ڈال کر بیٹھ جاتا۔ جب گولا ختم ہو جاتا تو گھر لوٹتا۔ اگر یہ بھی نہ ہوتا تو فقط قفلی یا گولے والے کو دُور جاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔ جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوتا گھر میں نہ گھستا تھا۔ یونین کونسل تب مصطفیٰ زیدی نے بنوائی تھی اور اُس میں ایک لائبریری بھی قائم کی تھی۔ اُس وقت وہ ساہیوال کے ڈی سی ہوتے تھے۔ اُس لائبریری میں بچوں اور بڑوں کے لیے بہت سی کتابیں تھیں۔ اکثر اوقات جب مجھے گولا نہ ملتا تو بجائے گھر میں داخل ہونے کے یونین کونسل کی لائبریری میں گُھس جاتا۔ وہاں ابنِ صفی کی عمران سیریز، ٹارزن کی جنگلی مہمیں اور کمانڈوز کی کہانیاں مفت میں مل جاتی تھیں جنھیں پڑھ کر واپس کرنا ہوتا تھا۔ مَیں وہ گھر لے آتا اور اُس کے عوض چوکیدار کو دوپہر کے وقت گھر سے عمدہ دودھ پتی بنوا کر لا پلاتا۔ یہاں سے مَیں نے وہ سارا ادب پڑھا جو بچوں کو پڑھنا چاہیے تھا۔ اے کاش، آج کے بچے پیدا ہوتے ہی جوان نہ ہوتے اور نیٹ کی بجائے کم از کم بیس سال کی عمر تک کتاب ہی سے واسطہ رکھتے تو یقین مانیے وہ آہستہ آہستہ بڑے ہوتے اور یہ بہت فطری ہوتا۔ کیونکہ جلد بڑا ہونے والا جلد رسوا ہوتا ہے۔ (علی اکبر ناطق)
یہ کتاب احمد ندیم قاسمی کے 8 افسانوں کا مجموعہ ہے۔
آج کی نوجوان نسل مبارک باد کی مستحق ہے کہ ہمارے وقتوں کے گھسے پٹے محبت و رومان اور ظالمانہ سماجی رویوں کے غل غپاڑوں سے باہر نکل آئی ہے۔ بدلتے وقت کے نئے چیلنجوں نے موضوعات کا ایک جہان اس کے سامنے کھڑا کردیا ہے جس سے نبٹتے ہوئے وہ اس کے ساتھ پورا انصاف کر رہی ہے۔ دُعا عظیمی کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے یہی نیاپن مجھ پر آشکار ہوا ہے کہ موضوعات میں تنوع اور جدّت کی اس درجہ ہماہمی اور رنگارنگی ہے کہ میری آنکھوں میں حیرت کا جہان امنڈ پڑا۔ بیشتر کہانیاں اور افسانے مکالماتی اسلوب میں لکھے گئے ہیں۔ طرزِ بیان سادہ، دلچسپ اور گہرائی کا حامل ہے۔ اس کے افسانوں میں طوالت نہیں اختصار ہےجو ایک خوش آئند بات ہے۔ عنوان سے لے کر نفسِ مضمون تک ہر رنگ اور ہر پہلو اپنی انفرادیت سے متاثر کرتا ہے۔ بہت دعائیں دُعا عظیمی کے روشن مستقبل کے لیے ۔سلمیٰ اعواندُعا عظیمی کے افسانوں میں محبّت، خواب اور دانائی آپس میں بغل گیر ہو جاتے ہیں۔ ان کے افسانوں کے کرداروں میں ایک ازلی و ابدی تشنگی ہے۔ وہ محبّت کے، چاہت کے اور اپنائیت کے پیاسے ہیں۔ وہ اپنے محبوب کی قربت میں ارضی جنت تلاش کرتے ہیں، مل کر گیت گاتے ہیں، مسحور ہوتے ہیں، رقص کرتے ہیں اور اس محبّت کی کوکھ سے دائمی رفاقت کے خواب چراتے ہیں۔ دُعا عظیمی کے افسانے بہت سی مشرقی عورتوں کی نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں۔ جوں جوں وہ کردار ذہنی بلوغت کے زینے طے کرتے ہیں وہ دھیرے دھیرے زندگی کی حقیقتوں سے نبردآزما ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ مثالیت پسندی کے خوابوں کے شیش محل سنگین حقائق سے ٹکرا کر چکنا چور ہو جاتے ہیں اور بعض دفعہ وہ دانائی کا روپ اختیار کر لیتے ہیں اور مضطرب دل کو پُرسکون بنا دیتے ہیں۔ دُعا عظیمی اپنے من کی گہرائیوں میں اتر کر یہ جاننے لگی ہیں کہ خاموشی، تنہائی اور دانائی پرانی سہیلیاں ہیں۔ اُن کے افسانے اس بات کے گواہ ہیںکہ وہ ان سہیلیوں سے دوستی کر کے اپنے فن کے ساتھ سطحی محبّت سے گہری محبّت کا سفر شروع کر چکی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دُعا عظیمی کی فنِ افسانہ نگاری میں گہرائی و گیرائی پیدا ہو رہی ہے۔ مجھے قوی اُمید ہے کہ اُردو کے افسانہ نگار اِن کے افسانوں کے پہلے مجموعے ’’فریم سے باہر‘‘کو خوش آمدید کہیں گے اور ان کی حوصلہ افزائی کریں گے۔خالد سہیل
Lose yourself in this exhilarating return to the #1 global bestselling Shatter Me universe
بقول چکبستؔ اگر زندگی عناصر کا ظہورِ ترتیب ہے تو ایک بڑا ناول عناصر کے ظہورِ ترتیب کی بے ترتیبی ہے۔ اُسامہ بھی جوناتھن لِونگ سٹن سِیگل (Jonathan Livingston Seagull) کی مانند پرواز کی طے شدہ حدّوں سے پار جانا چاہتا ہے۔ ناول کی جو مقیّد حدود ہیں اُن کو بھی عبور کرنا چاہتا ہے۔ اگر بڑی نثر بے یقینی کو عارضی طور پر معطّل کر دیتی ہے تو اس کی ایک منفرد مثال اُسامہ صدیق کا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اکیسویں صدی کے پہلے دو دہائے اُردو میں ناول کے دہائے سمجھے جاتے ہیں، کئی اچھے ناول اور ناول نگار سامنے آئے۔ انھیں میں ایک چونکا دینے والا نام اُسامہ صدیق کا ہے۔ اَدبی دُنیا میں ان کی آمد عبد اللہ حُسین سے وابستہ وہ روایت یاد دلا دیتی ہے کہ وہ پہلی بار ’’اُداس نسلیں‘‘ کے ساتھ متعارف ہوئے اور اَدبی اُفق پر چھا گئے۔ اُسامہ بھی ایسے ہی خوش قسمت ادیبوں میں سے ہیں۔ اُسامہ پر اس پرانی کہاوت کا اطلاق ہوتا نظر آیا کہ اس کے آنے کی خبر سُن کر سرخ قالین بچھا دیے گئے، وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ نے پہلی بار مجھے ناول کی ایک اچھی تعریف سجھائی کہ ناول خصوصی حالات و واقعات کا عمومی اور سہل اظہار ہے اور عمومی حالات و واقعات کا غیر معمولی اظہاریہ۔ یہ ناول نئے عہد کا ڈسکورس ہے۔ یہ نئی صدی کا کلامیہ ہے۔ وجود سے لاوجود کا قِصّہ ناول کی مرکزی جہت ہے۔ اُسامہ صدیق نے اس فکر کی گہرائی کو انتہائی جدید اُسلوب اور تکنیک بخشی ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ اک لمبا عرصہ اس ناول پر بات چیت جاری رہے گی۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ مجھے ختم کرنے میں کچھ دن تو لگ گئے مگر سہج سہج پڑھنا بہت سود مند ثابت ہوا۔ مجموعی طور پر با کمال ناول ہے۔ میرے خیال میں اس کا پلاٹ ہرگز روایتی نہیں، اس لیے ہر کوئی اس کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے نہ تحسین کر سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ بنانے کی کوشش بھی عبث ہے۔ اُردو ناول میں اس طرح کا تجربہ اس سے پہلے کرنے کی کسی نے جراَت نہیں کی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا انگریزی میں "Snuffing Out the Moon" جیسا عمدہ ناول لکھنے کے بعد اُردو کے اس ناول میں اُسامہ کی تحریر اور جو فضا یہ قائم کرتے ہیں اور جس طرح سے انھوں نے داستانوں کے حوالے دیے ہیں اور جس طرح اپنی زندگی کے سفر کو انھوں نے لاہور سے جوڑا ہے وہ حیران کن حد تک متاثر کن ہے۔ یہ شاید اس لحاظ سے اکیلے ہیں کہ جس اعلیٰ معیار کی انگریزی فکشن انھوں نے لکھی ہے اس سے بھی بہتر معیار کی اردو فکشن لکھی ہے۔ اس ناول سے مجھے جیمز جوئیس کے مشہورِ زمانہ ناولوں "Ulysses" اور "Dubliners" کا خیال آتا ہے جو Dublin کے بارے میں ہیں۔ What Dublin was for James Joyce Lahore is for Osama Siddique۔ یہ کتاب کیا چیز ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ میں اگر اپنے گھر میں کتابوں کو ترتیب دوں تو اُسامہ کی اس کتاب کو قرۃ العین حیدر کی کتابوں کے قریب ہی رکھوں گا۔ غازی صلاح الدین اُسامہ صدیق کا اُردو نثر کا مطالعہ جدید اُردو ناول لکھنے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ خاص کر کلاسک اُردو داستانوں کا مطالعہ اُنھوں نے بہت کر رکھا ہے اور مسلسل کرتے ہیں۔ عالمی ادب کے ناول بھی پڑھ رکھے ہیں، لہٰذا وہ اُردو ناول کی مبادیات، تاریخ اور تہذیب و ارتقا سے مکمل واقف ہیں۔ یہ ناول سب سے ہٹ کر اپنی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اُسامہ اب ایسا ادیب ہے جس کو ضرور بر ضرور پڑھا جانا چاہیے۔ علی اکبر ناطق اُسامہ صدیق کا ناول لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ اگر آپ افتاد طبع کے لحاظ سے الف لیلوی واقع ہوئے ہیں، قصہ چہار درویش، آرائش محفل اور ہزار داستان جیسی تحریریں پڑھتے ہیں، جاڑوں کی ٹھٹھرتی چاندنی میں گلیوں میں بے مقصد گھومتے ہیں، میٹھا پان کھا کے ’اے دل کسی کی یاد میں‘ گاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور کسی شام ہم جیسے قصہ گووں کی محفل میں آ نکلتے ہیں تو فوری طور پہ یہ ناول حاصل کیجیے۔ یہ ناول ایک کیفیت ہے۔ ویسی ہی کیفیت جیسی نومبر کے اوائل میں علی الصباح ہار سنگھار کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کے چپ چاپ اس کی کلیوں کو کندھوں پہ، بالوں پہ، نم زمین پہ گرتے ہوئے محسوس کرنا۔ آمنہ مفتی بیسویں صدی کے ربع اوّل میں دو ناولوں پہ بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ پہلا ہے ’’غلام باغ‘‘ اور دوسرا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس صدی کا تیسرا اہم ناول ہے جس میں ہمارے وجود کے بارے میں سوچا گیا ہے۔ اس کا ایک خاص کمال یہ ہے کہ اس میں حقیقی مقامات اور کرداروں کو fictionalize کیا گیا ہے۔ جب کوئی تخلیق کار یہ کمال کر پاتا ہے تو وہ کردار eternal ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جاننا ہو کہ پچھلے پچاس سالوں میں ہمارے ساتھ، ہمارے وجود کے ساتھ، ہمارے معاشرے کے ساتھ، ہماری ثقافت کے ساتھ، اور ہماری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس ناول کو پڑھے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن
Mansfield Park Azad hin foj اُس وقت میری عمر پانچPages: 364 Category: English Fanny Price is ten when her poor parents send her to live with Bertrams, their rich relatives at Mansfield Park. The new life, however, has its own disadvantages. Her cousins, save Edmund, mistreat her. Her other aunt, who lives at Mansfield parsonage, treats her worse. Nonetheless, she grows up to be a fine, young lady. Then, one day voguish Mary and Henry Crawford come from London to stay at the parsonage. Their arrival